ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آر اشوک پر اراضی گھپلے کا الزام،فوری کارروائی کرنے کانگریس لیڈروں کا حکومت سے مطالبہ

آر اشوک پر اراضی گھپلے کا الزام،فوری کارروائی کرنے کانگریس لیڈروں کا حکومت سے مطالبہ

Tue, 31 Oct 2017 11:46:13    S.O. News Service

بنگلورو،30؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) سابقہ بی جے پی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے آر اشوک کی طرف سے بنگلور ساؤتھ تعلقہ میں دس ہزار کروڑ روپیوں کی لاگت پر ڈھائی ہزار ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر حاصل کئے جانے کے الزامات کی کانگریس نے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ آج سینئر کانگریس لیڈران رکن کونسل وی ایس اگرپا، کونڈا جی موہن اور پروفیسر کے ای رادھا کرشنانے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہاکہ کرپشن کے متعلق بیان بازی کرنے والی بی جے پی پہلے کرپشن میں ملوث اپنے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جرأت کا مظاہرہ کرے۔ ان لیڈروں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاکہ اشوک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ان کی طرف سے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی زمین بھی واپس لی جائے۔ وی ایس اگرپا نے کہاکہ بنگلور ساؤتھ تعلقہ میں آر اشوک نے بنجر زمین بورڈ کے صدر کی حیثیت سے غیر قانونی طور پر زمینات پر خود قبضہ کرلیا ہے۔ اس سے ریاستی خزانے کو دس ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔ بنگلور ساؤتھ تعلقہ کے 62 دیہاتوں میں 1560افراد کو 2500ایکڑ زمین منظور کی گئی ہے۔اس میں سے بہت بڑا حصہ بی جے پی کارکنوں کو ملا ہے۔ خاص طور پر بی جے پی کارپوریٹرس اور ان کے خاندان والوں نے آپس میں یہ زمین تقسیم کرلی ہے۔اس سلسلے میں سب ڈویژنل آفیسر نے مبینہ دھاندلیوں کے متعلق ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ سونپ دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی اس کا جائزہ لے کر کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔ مسٹر اگرپا نے کہاکہ ایک سابق کارپوریٹر اور اس کے خاندان والوں نے25 ایکڑ 32 گنٹے، کبڑی بابو نامی ایک شخص نے تین ایکڑ ، جے ڈی ایس کے ایک لیڈر اے پی رنگناتھ نے پندرہ ایکڑ ، آدی کیشولو نے پانچ ایکڑ ، بی جی ایس مٹھ کو 21؍ ایکڑ اور دیگر افراد میں یہ زمین تقسیم کی گئی ہے۔ گزشتہ اگست میں زمین پر غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ کرنے والی کمیٹی نے بھی اس معاملہ کا جائزہ لیا ہے۔ وزیر مالگذاری نے بھی اس شکایت کا جائزہ لے کر کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان حالات میں آر اشوک اپنی بدعنوانی کی اصلاح کرنے کی بجائے ریاستی حکومت پر نکتہ چینی میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت اشوک کی وجہ سے خزانے کو جو دس ہزار کروڑ روپیوں کانقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کرے۔ حالانکہ یہ قانون موجود ہے کہ بی بی ایم پی کی حدود میں 18 کلومیٹر کے دائرہ میں کسی نجی فریق کو بی بی ایم پی کی زمین منظور نہ کی جائے۔ اس کے باوجود بھی ان زمینات کو منظور کرانے کا سلسلہ برقرار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس سلسلہ میں کارروائی کی جائے۔


Share: